علم انسان کا پیدائشی حق :
علم ایک سہ حرفی لفظ ہے جو اپنے اندر پوری کائنات کو سمیٹے ہوئے ہے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو مسخر کرنے والا بنایا۔ علم حاصل کرنے کا عمل انسان کی پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اگرچہ انسان اپنی پیدائش سے لفظ علم کے معنی اور مقاصد سے آگاہ نہیں ہوتا مگر وہ اس عمل میں روز اول سے مصروفِ عمل ہوتا ہے اپنے ارد گردکے ماحول سے سیکھتا ہے اور سیکھنے کا عمل اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت میں رکھا ہے اورانسان اس طرح مظاہر قدرت کی جستجو کرتا ہے اورخوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اس لئے
تخلیقِ کائنات سے علم کی ابتدا ہوئی اور علم کی بنیاد پر ہی آدم کو فرشتوں پر فضیلت حاصل ہے۔
اسلام کا تصور علم :
اسلام میں تصور علم ایک روشن چراغ کی طرح ہے جو اس طرف توجہ کرنا چاہے ظاہری اور باطنی طور پر ضرور اسلامی تصور علم سے روشنی پاتا ہے۔ اس لیے علم مومن کے قلب پر
ایک نور ہے جو آقا علیہ السلام کے اقوال، افعال اوراحوال کے ادراک کا نام ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال اور اس کے احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے اگر یہ
علم کسی واسطے سے یعنی والدین، استاد، سکول، یونیورسٹی سے حاصل ہو تو کسبی علم کہلاتا ہے اور اگر بلاواسطہ ہو تو علم لدنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عطا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ علم کی اہمیت اور تصور کو اجاگر کرنے کے لیے فرماتے ہیں۔
يرفع الله الذين امنوا منکم والذين اوتوا ا لعلم درجات. (مجادله : 11)
’’اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا۔ ‘‘
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا :
قل هل يستوی الذين يعلمون والذين لايعلمون (الزمر : 9)
’’فرما دیجئے! کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں‘‘
و قل رب زدنی علما (طٰه : 114)
’’اور آپ (رب کے حضور یہ ) عرض کیا کریں کہ اے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دے‘‘
حدیث مبارکہ میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
٭ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا صرف دو چیزوں پر رشک کرنا مستحسن ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اس کو نیکی کے رستہ پر
خرچ کرتا ہو اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت دی ہو وہ اس کے مطابق فیصلے کرے اور اس کی تعلیم دے۔ (صحیح بخاری)
٭ اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من سلک طريقا يلتمس فيه علما سهل اﷲ به طريقا الی الجنه. (صحيح مسلم )
’’جو آدمی علم کی تلاش کرنے کے لئے کسی راستہ پر چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے‘‘
٭ اسی طرح ایک اور مقام پر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من خرج فی طلب العلم فهو فی سبيل اﷲ حتی يرجع. (جامع ترمذی)
’’جو شخص علم کی طلب میں نکلے وہ لوٹ کر آنے تک اللہ کے راستہ میں ہے۔ ‘‘
قومی سطح پر تعلیمی کاوشیں :
کسی بھی ملک میں ترقی کے پیش نظر تعلیم کے لیے ہمیشہ قومی پالیسی وضع کی جاتی ہے
قومی پالیسی کے لئے تعلیمی مقاصد پر تمام پارٹیوں اورطبقوں کا اتفاق ضروری ہوتا ہے۔
صرف ’’قومی پالیسی‘‘ کا لفظ استعمال کر لینے سے کوئی پالیسی قومی نہیں بن سکتی۔
1۔ قیام پاکستان کے بعد مضبوط تعلیمی نظام کی ضرورت تھی۔ 27 نومبر تا یکم دسمبر
1947ء تک پانچ دن تعلیمی کانفرنس ہوئی جس کی صدارت وفاقی وزیر فضل الرحمن نے کی جس
میں قائد اعظم کا پیغام سنایا گیا اور فیصلہ کیاگیا کہ پاکستان کے نظام تعلیم کی
بنیاد اسلامی فلسفہ حیات اور نظریہ پاکستان پر ہوگی۔
اس کانفرنس میں نظام تعلیم کا ڈھانچہ تیار کرنے کے اصول تیار کیے گئے تھے اور مختلف
ادارے قائم کیے گئے (فنی بورڈ، مرکزی مشاورتی کونسل، انٹر یونیورسٹی بورڈ، فنی
تعلیم کی کونسل اور سائنسی و صنعتی تحقیقی کونسل جیسے ادارے اس کی سفارش پر قائم ہوئے۔
اس کانفرنس کی کاوشیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تھیں۔ اس میں مسائل زیادہ
ہونے کی وجہ سے سفارشات پرعمل درآمد نہ ہوسکا۔
2۔ دوسرا تعلیمی کمیشن 1959ء :
مارشل لاء میں انقلابی نظام تعلیم کا فیصلہ کیا۔ 3 دسمبر 1958ء کو تعلیمی کمیشن قائم
ہوا۔ 26 اگست 1959 میں کمیشن نے رپورٹ پیش کی ایک وزارتی کمیٹی نے رپورٹ کا جائزہ
لیا اور من و عن منظور کر لیا۔ ان تجاویز پر طلبہ نے ہنگاموں کا سلسلہ شروع کیا جس
پر عمل درآمد روک دیا گیا یہ رپورٹ پہلی جامع تعلیمی دستاویز تھی اس میں ہر شعبہ کی
اصلاح کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔
3۔ قومی تعلیمی پالیسی 1970 :
جنرل یحییٰ نے ائیر مارشل نور خان کو وزیر تعلیم بنایا اور تعلیمی پالیسی بنانے کے
لئے دی اورمارچ 1970 میں نور خان تعلیمی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ اس رپورٹ کے دو حصے تھے۔
٭ دلائل کے ساتھ انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت کا احساس دلایا گیا۔
٭ دوسرے حصہ میں نئی تعلیمی پالیسی اور نیا تعلیمی منصوبہ بنایا گیا۔
اس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا نظام تعلیم اسلام پر مبنی ہوگا اور لادینت
کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس رپورٹ پرعملی نفاذ کی نوبت نہیں آئی۔
4۔ تعلیمی پالیسی 1972-80 :
1971 کے قومی سانحہ کے بعد بھٹو حکومت نے اصلاحات کا اعلان کیا مرکزی تعلیمی کمیشن
قائم ہوا اور دو ماہ میں نظام پیش کیا۔ 29 مارچ 1972 میں بھٹو نے سول مارشل لاء
ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے نفاذ کیا۔ تمام نجی تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا۔
یہ پالیسی ملک کی پہلی دستاویز ہے جسے منتخب جمہوری حکومت نے مرتب کرایا۔ یہی وجہ
ہے یہ تعلیمی پالیسی عوامی امنگوں کی ترجمان تھی اس کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے
کے لئے تیزی سے عمل ہوا۔
٭ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کا قیام اس پالیسی کی سفارش پر ہو
٭ 6 نئی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔
٭ عمل درآمد کے لحاظ سے مفید پالیسی تھی یہ بھی پالیسی مدت پوری نہ کرسکی۔
5۔ تعلیمی پالیسی 1978ء :
ضیاء الحق نے اسلامی نظام کے نفاذ کو بڑا مقصد قرار دیا۔ انہوں نے بھی نئی پالیسی
مرتب کی۔ 12 اکتوبر 1978ء کو اعلان ہوا اس تعلیمی پالیسی کی روشنی میں مکتب سکول
اورمحلہ سکول کھولے گئے۔
6۔ تعلیمی پالیسی 1992ء :
اس پالیسی کا 6 دسمبر 1992ء میں اعلان ہوا۔ تعلیم سب کے لئے۔ اس پالیسی کا طرہ
امتیاز تھا۔ NTS اس پالیسی کی سفارش پر بنایا گیا۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن پر توجہ ہوئی۔
7۔ تعلیمی پالیسی 1998ء :
یہ پالیسی 21 صدی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بنائی گئی۔ 21 فروری 1998 کو اعلان کیا
اور عوام سے پالیسی کے بارے میں آراء حاصل کی گئیں 774 دستاویز موصول ہوئیں۔
مارچ 1998 میں حتمی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ اس پالیسی پر بڑی حد تک عمل
ہورہا ہے۔
8۔ تعلیمی اقدامات 1999-06 :
اس دور میں فوجی انقلاب آیا حکومت نے گذشتہ پالیسیزکی بعض جزئیات پر عمل کیا۔ روشن
پاکستان کے سلوگن کے نام سے نصاب میں بھی تبدیلی آئی۔ یونیورسٹوں پر توجہ دی گئی۔
واضح پالیسی نہ تھی بلکہ سابق پالیسیاں تھیں ان پرعمل درآمد کیاگیا۔
9۔ قومی تعلیمی پالیسی2006ء :
جون 2006ء کو پالیسی اینڈ سکیم آف سٹڈی منظور کی گئی اور نفاذ 2007ء سے ہونا تھا۔
یہ بھی پیوندکاری تھی جو چل نہ سکی۔
نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے قیام پاکستان سے لے کر اب تک چھ تعلیمی پالیسیاں
بنائی گئیں اورتین مرتبہ ان Policies کو Review کیا گیا اور ان میں صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم daption کی گئی
لیکن بدقسمتی سے کسی ایک پالیسی پر بھی مکمل عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ جس وجہ سے
مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکے کیونکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام رہا (Political
instability)، عدم تسلسل (Inconsistency)، ذرائع کے فقدان (Lake of Resources)،
تصورات میں الجھاؤ (A gitation)، عمل درآمد کا فقدان (Lake of implementation)، پیشہ
وارانہ تعلیم کی کمی (Lake of professional knowledge) کی وجہ سے تعلیمی میدان میں
جو ممالک گذشتہ صدی کے وسط میں قائم ہوئے ان سے ہم بہت پیچھے ہیں۔
مذکورہ حالات کے پیش نظر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہر القادری نے تعلیمی و شعوری انقلاب کے لیے تعلیمی منصوبہ کا آغاز کیا جس میں پرائمری، مڈل اور اعلیٰ تعلیم کے لئے قائم کئے گئے جملہ تعلیمی ادارے اپنے محدود وسائل میں کامیابی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔