Hits: 79,075 |
منہاج ايجوکيشن سوسائٹي - تعلیمی پالیسی 2000ء
 |
|
 |
تعلیمی پالیسی 2000 کے خدوخال (MES)
سکولوں کی تشکیل :
- سکول کھولنے کے لئے مقامی تنظیم بنیادی وسائل کی ذمہ دار ہے۔
- اساتذہ اور طلبہ کی تعداد اور فیسوں کا انتظام ایسا ہوگا کہ سکول مالی لحاظ سے خود کفیل ہو۔
- خسارے کو پورا کرنے کے لئے تنظیمات ویلفیئر سے حاصل کردہ تعلیمی منصوبے کی مد کا
45 فیصد مرکز کی پالیسی کے مطابق خرچ کرے گی۔
- اساتذہ کا ایک خاص کیڈر بھی تیار کرنا ہوگا جو انہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں
جہاں سکول کھولے جائیں۔
- سکولوں کے پیشہ ورانہ معاملات میں غیر پیشہ ور حضرات مداخلت نہیں کریں گے۔
- نرسری سے پانچویں تک مخلوط تعلیم اور خواتین اساتذہ رکھی جائیں گی اور چھٹی سے
دسویں جماعت تک مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں ہوگی۔
- سکولوں کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ نظام وضع کیا جائے تاکہ مالی
وسائل ضائع نہ ہوں۔
- مرکز سے مقرر شدہ نصاب پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور مقررہ نصاب کے علاوہ
طلبہ کو کوئی اور کتاب خریدنے اور پڑھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
- MES کے ساتھ ہر منہاج سکول کو رجسٹریشن کروانا لازم ہوگی۔
- سکولوں کو محکمہ تعلیم سے رجسٹرڈ کروایا جائے گا اور میٹرک کے امتحان دلوانے کے
لئے متعلقہ بورڈ سے منظوری حاصل کی جائے گی۔
- کوئی نیا سکول MES کی منظور ی کے بغیر نہیں کھولا جائے گا۔
- MES کے مجوزہ فارم پر فزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ
ADE کی سفارشات کے ساتھ مرکز کو بمعہ رجسٹریشن منظوری فیس ارسال کی جائے گی اور
منظوری کے لئے درج ذیل معاملات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
- نئے سکول تحریک کی ملکیتی عمارت میں قائم کئے جائیں۔
- کرائے کی صورت میں عمارت ترجیحاً تحریکی ساتھیوں سے لمبے عرصے کے لئے حاصل کی جائے۔
- زمین خریدنے کی صورت میں حسب ضرورت کمرے تعمیر کئے جائیں اور ان میں بتدریج اضافہ کیا جائے۔
- عمارت کا ماسٹر پلان مرکز سے منظور کروانا لازمی ہوگا۔
- سکول کے طلبہ کی رجسٹریشن برائے امتحانات MEB کے ساتھ کرانا ضروری ہوگا اور مقرر شدہ فیس مقررہ وقت پر جمع کروانا لازمی ہوگا۔
- سکول کے تدریسی اور انتظامی امور کی جانچ پڑتال MES کی پالیسی کے مطابق ADE کریں گے۔
- فیسوں کے معیار کو درست رکھنا ہوگا تاکہ مطلوبہ مالی وسائل میسر ہوں اور سکول خسارے کا باعث نہ بنیں۔
|
|
|